خوبصورت مسکراہٹ کے ليے صحت مند دانت

بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کسی شخص سے ملتے ہیں تو اس کی جامہ زیبی اور گفتگو سے بہت متاثر ہوتے ہیں ۔ مگر جب وہ کسی بات پرہنستا اور اپنے دانتوں کی نمائش کرتا ہے تو اس کے داغ دار اور ٹوٹے پھوٹے دانت دیکھ کر اس کی شخصیت کا ہم پر ہونے والا خوشگوار اثر فوراََ زائل ہوجاتا ہے۔ اس سے مزید باتیں کرکے کوفت ہونے لگتی ہے۔ ایسے تمام افراد جن کا منھ پان کی پیک سے بھر رہتا ہے، ہمیں اچھے نہیں لگتے۔

ذا کھانے کے لیے بہت ضروری ہیں ، اس لیے یہ چبانے کے کام آتے ہیں۔ جب ہم اپنے دانت اور منھ کی صحت کی طرف توجہ نہیں دیتے تو غذا سے پیدا ہونے والا تیزاب اور بیکٹیریا دانتوں پر قدرتی طور چڑھی ہوئی دو پرتوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔ جنھیں مینا(Enamel) اور چینی (Dentine) کہا جاتا ہے۔ تیزاب پیدا ہونے کی بنا پر دانتوں پر گڑھے بن جاتے اور خراشیں پڑجاتی ہیں ۔ ان گڑھوں میں غذائی ذرّات جاکر پھنس جاتے ہیں تو بیکٹیریا انھیں اپنا مستقل ٹھکانہ بنالیتے ہیں ۔

ڈینٹل سینٹر فیصل آباد کے ڈاکٹر بلال نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا: بیکٹیریا صرف ان ریشوں کو ہی نقصان نہیں پہنچاتے جو دانتوں کو مسوڑوں سے جوڑتے ہیں ۔ بلکہ جلن اور سوزش بھی پیدا کردیتے ہیں ۔ پھر جب ہم کوئی چیز کھاتے ہیں تو مسوڑے سُو ج جاتے ہیں اور ان سے خون آنے لگتا ہے۔“

خون کا رسنی اور سوجن دانتوں کی عام بیماری ہیں جب ہم کوئی چیز چباتے ہیں تو شدید درد ہوتا ہے۔ منھ سے بُو آنے لگتی ہیں دانتوں کی حسّاسیت بڑھ جاتی ہیں اور گرم سرد اشیا دانتوں کو تیز لگتی ہیں ۔ مسوڑوں میں تعدیے (انفیکشن ) کی یہ خاص علامات ہیں ۔

ڈاکٹر بلال کے کہنے کے مطابق دانتوں پر جمی ہوئی میل کی تہ (PLAQUE) حقیقت میں منھ کی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ دانتوں پر جمنے والی میل کی تہ میں بیکٹیریا کی دو بڑی پرتیں ہوتی ہیں ، جو مسوڑوں کی بافتوں (ٹشوز) میں جلن پیدا کردیتی ہیں ۔ اگر اس کا صیح طور پر علاج نہ کیا جائے تو دانت بل اور گر سکتے ہیں ۔ مسوڑا پیچھے سڑک سکتا ہے ۔ یا جبڑے کی ہڈئی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جو دانتوں کو تھامے رہتی ہے۔ دانتوں کے بیکٹیر یا جب خون میں شامل ہوکردوسرے اعضاء تک پہنچ جاتے ہیں تو تعدیہ پھیلاتے ہیں ۔ ۔ کان، آنکھیں اور دماغ اس تعدیے سے متاثر ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مسوڑوں سے نکلنے والی پیپ جب غذا میں شامل ہوکرپیٹ میں پہنچتی ہے۔ تو وہاں بھی تعدیہ پھیل جاتا ہے۔ دانتوں کے معائنے کے بعد منھ کی بیماریوں کا پتہ چلایا جاسکتا ہے، بعض اوقات ایکسرے سے بھی بیماری کا پتا چل جاتا ہے اور مناسب ہوجاتا ہے۔

مسوڑوں میں جلن اور سوز ش معدے بیماریاں سے بھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مثلاََ جگر کا ورم ، حیاتین (وٹامنز ) کی کمی ( خاص طور پر سی ڈی اور کے ) قوت مدافعت میں کمی اور منھ کی سوجن وغیرہ ۔ خون میں تھلے پڑنے اور خون کو پتلا کرنے والی ادویہ سے بھی کئی مسائل جنم لیتے ہیں ، ڈاکٹر بلال کہتے ہے ہارمون میں تبدیلی کی بنا پر بعض اوقات حاملہ خواتین کے مسوڑوں میں بھی جلن اور سوزش پونے لگتی ہے۔ بلوغت کے وقت یہ جب ایام شروع ہوتے ہیں تو اس وقت بھی ہارمون میں ایسی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہیں کہ مسوڑوں میں جلن اور سوزش ہونے لگتی ہے،

بعض خواتین جو مائع حمل گولیا ں کھاتی ہیں ان کے پہلوں اثرات (SIDE EFEFCT) مرتب ہونے لگتے ہیں اور ان ک مسوڑوں میں جلن اور سوزش ہونے لگتی ہیں ۔ وہ خواتین جوسن یا س کے مرحلے سے گزر رہی ہوں ۔ وہ قوت مدافعت میں کمی کے سبب مسوڑوں کی سوزش اور جلن میں مبتلا ہوسکتی ہیں ۔ ڈاکٹر بلال نے بتایا تمباکو نوشی کرنے والے افراد ہمیشہ منھ کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں کیونکہ سگریٹ میں زہریلے مادّے ہوتے ہیں ، جن کی بنا پر دانتوں میں دھبّے پڑجاتے ہیں اور مسوڑوں میں سوزش اور جلن ہونے لگتی ہیں کھبی کبھار مسوڑوں کی سوزش اور جلن تعدیے کی وجہ سے بھی ہوتی ہے اور ایک فرد سے دوسے فرد کو لگ جاتی ہیں ۔ دانتوں کے ایک معالج کا کہنا ہے وہ شخص جسے دانت کی کوئی بیمای ہوں اگر اس کا گلاس یا پیالی صحت مند شخص نے استعمال کر لی تو بیماریاں اسے بھی لگ سکتی ہیں چاہے آپ دانتوں کا کتنا ہی خیال کیوں نہ رکھتے ہوں ۔“سونے کے دوران دانت پیسنے سے بھی سوزش اور جلن پیدا ہوجاتی ہے۔

بیماریاں سے بچنے کے لیے دانتوں کی صفائی پر بھرپور توجہ دینی چاہیے ، دانتوں میں برش نہ کرنے برش کا غلط استعمال کرنے اور برش کا غلط طریقے سے استعمال کرنے سے بھی سوزش اور جلن ہوجاتی ہیں ۔ لوگ بے پروائی سے کوئی سا بھی دھاگہ اٹھالیتے اور دانتوں کو صاف کرنا شروع کردیتے ہیں ، ڈاکٹر بلال کہتے ہے یہ بالکل غلط طریقہ ہے۔ جہ دھاگہ آپ دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کررہے ہیں اس کے بارے میں اطمینان کرلیجیے وہ جراثیم الودہ نہ ہوں ورنہ مسوڑوں میں تعدیہ ہوسکتا ہے۔ ہمیشہ میڈیکل سٹوروں میں ملنے والے جراثیم سے پاک دھاگہ ہی استعمال کریں ۔دانتوں میں صیح طریقے سے برش کرنے کی بھی اہمیت ہیں ۔ برش کرنے سے مسوڑوں میں خون رواں رہتا ہے۔ اور دانتوں کے زہریلے مادے صاف ہوتے رہتے ہیں۔ برش کو سیدھ میں چلانے کی بجائے اوپر نیچے چلائیں ۔ دھاگے سے دانت صاف جکرتے وقت طاقت کا استعمال نہ کریں دھاگے کو ملائمت سے چلائیں ۔ نمکین پانی سے کلیاں کرنا بھی دانتوں کے لیے مفید ہے ۔ اس کے علوہ کوئی ایسا ماوتھ واش بھی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس میں الکحل شامل نہ ہوں ۔ دانتوں کی حفاظت کے کئی اور طریقے بھی ہیں ۔ جن میں متوازن غذاکھانا شامل ہیں متوازن غذا سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا مسوڑوں کو بھی طاقت ملتی ہیں ، بہت چکنے اور میٹھے کھانوں سے اجتناب کیجیے۔

ایسے کھانوں کے ذرّات دانتوں پر چپک جاتے ہیں اور میل کی تہ بن جاتی ہیں۔ چناں چہ میٹھی اور میٹھی اور چکنی غذا کھانے کے بعد دانتوں میں لازمی برش کرلینا چاہیے۔ کیلسئیم ، حیاتین سی ڈی میگینزیم اور اومیگا ،3والی غذائیں کھانے سے بھی مسوڑوں اور دانتوں کو تقویت ملتی ہے۔ ان سے دانتوں پر جما ہوا میل بھی صاف ہوتا رہتا ہے، زیادہ عرصے تک ذہنی دباؤ میں مبتلا نہ رہیں ۔ اس لیے ذہنی دباؤ میں مبتلا رہنے سے کارٹی سول (CIRTISOL) ہارمون پیدا ہونے لگتے ہیں ۔ جن سے جسم اور مسوڑوں میں جلن ہونے لگتی ہے۔ڈاکٹر بلال مزید کہتے ہیں :”منھ کی بیماریاں اور مسوڑوں کی جلن دور کرنے کے لیے دانتوں کے معالج سے رجوع کریں اورادویہ کھائیں ۔ مشین سے دانتوں کی صفائی (SCALING) سے نہ صرف دانت گہرائی سے صاف بلکہ مسوڑے بھی مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ دانتوں میں پڑھے گڑھوں کی صفائی کرانا اور انہیں بھروالینا چاہیے ۔ اگر تعدیہ پھیلنے کا امکان ہوتو مسوڑوں کی سرجری بھی ہونے لگی ہے۔ اسے بھی اپنانے میں کوئی حرج نہیں ۔ ڈاکٹر بلال کے مطابق دانتوں کا علاج اب کافی مہنگا ہوچکا ہے ، کیوں کہ دانتوں کے علاج کے لیے ملنے والے آلات بھی مہنگے ہونگے ہیں ۔ بہترہوگا ہم اپنے دانتوں کی طرف توجہ دیں ، تاکہ معالج کے پاس جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔ اسی صورت ہمارئی جیب پر بار بھی نہیں پڑے گا اور ہم دلکش انداز سے یوں ہی مسکراتے رہیں گے۔

(تنزیلا عباسی کی طرف سے پوسٹ کیا گيا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *